نئی دہلی،16/دسمبر(آئی این ایس انڈیا) اناؤ ریپ معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگرکو سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے پیر کو مجرم قرار دیا ہے۔ وہیں ششی سنگھ کو عدالت نے بری کر دیاہے۔سینگرپر اغوا اور قتل سمیت کئی معاملے درج ہیں۔
کیس کی سماعت ختم ہونے کے بعد ضلع جج دھرمیش شرما نے کہا تھا کہ وہ 16 دسمبریعنی آج اپنا فیصلہ سنائیں گے۔سپریم کورٹ کی ہدایت پر اس کیس کو لکھنؤ سے دہلی ٹرانسفر کیا گیا تھا۔ ٹرانسفر ہونے کے بعد 5 اگست سے روزانہ اس معاملے کی سماعت ہو رہی تھی۔
کلدیپ سنگھ سینگرکو ریپ (376) اور پاکسو ایکٹ میں مجرم ٹھہرایا ہے۔اب 3 اور معاملات میں دہلی کی خصوصی سی بی آئی عدالت میں مقدمے کی سماعت چل رہی ہے۔ کورٹ نے کہا کہ متاثرہ واردات کے وقت نابالغ تھی۔ اس کے ساتھ جنسی زیادتی ہوءی ہے ۔متاثرہ ڈری ہوئی تھی اور اس کے خاندان کو جان کا خطرہ تھا۔وہ پاورفل آدمی سے لڑ رہی تھی۔عدالت نے یہ بھی مانا کہ متاثرہ کے خاندان پر فرضی کیس لگائے گئے تھے۔سی بی آئی نے گینگ ریپ کیس میں چارج شیٹ پیش کرنے میں 1 سال لگا دیا۔سی بی آئی پر بھی جج نے سوال کھڑے کیے۔سی بی آئی نے متاثرہ کو بیان درج کرنے کے لئے کئی بار بلایا، جبکہ سی بی آئی کو متاثرہ کے پاس جانا چاہئے تھا۔کلدیپ سینگرنے 2017 میں ایک لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد اس سے عصمت دری کی تھی۔اس وقت نوجوان عورت نابالغ تھی۔